منصوبوں کی فہرست۔2016

حکومت پاکستان ملک میں تیزرفتار معاشی ترقی کی خواہاں ہے،مگر قابل عمل اور موثر بنیادی ڈھانچہ کی عدم دستیابی ترقی کی مطلوبہ شرح کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ترقی کے رحجان کو ٹھوس بنیاد فراہم کرنے کیلئے نجی شعبہ کی شمولیت اور سرمایہ کاری نہایت ضروری ہے،جس سے ملک میں معاشی ترقی کی فضاء پیدا ہوگی اور غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔حکومت ملکی اور علاقائی تجارتی ضروریات کے مطابق سڑکوں کے ڈھانچہ کی ترقی و توسیع کیلئے صحیح سمت میں اقدامات اٹھا رہی ہے۔اگرچہ موجودہ وقت میں یہ ایک مشکل کام ہے تاہم آئندہ پانچ سے سات سالوں کے دوران ملک میں ایک بہتر درجے کے شاہراتی ڈھانچہ کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔
حکومت پاکستان نے سڑکوں کی ترقی کیلئے ایک جامع اور مربوط پروگرام تشکیل دیاہے اور مختص شدہ مالی بجٹ 50 فیصد ٹارگٹ حاصل کرنے کیلئے کا فی ہے۔ جبکہ باقی ماندہ رقم حکومت اور نجی شعبہ کی شراکت(پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ۔پی پی پی ) کی فنانسنگ کے ذریعہ پوری کی جائے گی۔این ایچ اے ایکٹ 1991ء کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی گیارہ ہزار کلومیٹر طویل قومی شاہرات اور موٹرویز کے نیٹ ورک کے ڈیزائن ان کی ترقی اور آپریشن کا ذمہ دار ہے ۔این ایچ اے ایکٹ کے تحت ،این ایچ اے کو نجی شعبہ کی سرمایہ کاری کے ذریعے منصوبے شروع کرنے اور ایوارڈ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔این ایچ اے کی ترقیاتی سکیموں میں پی پی پی ایک ضروری عنصر کی حیثیت حاصل کر رہا ہے،اس سلسلہ میں این ایچ اے نے مختلف اقدامات کئے ہیں جو درج ذیل ہیں۔
* پی پی پی منصوبوں سے متعلق ون ونڈو سہولت کی فراہمی کیلئے این ایچ اے میں پرائیویٹ سیکٹر سیل کا قیام۔
* پی پی پی پالیسی اور قانونی فریم ورک کی تیاری۔
* تمام مراحل پر پی پی پی منصوبوں کو نظم و ضبط کے مطابق آگے بڑھانے کیلئے ایس او پی ز کی تیاری۔
* دستاویزات کی معیار بندی کرنا جیساکہ پری کوالی فکیشن کا معیار،درخواست برائے تجاویز بشمول جانچنے کا معیار اور رعایتی معاہدہ۔
* ایسے منصوبوں کی نشاندہی کرنا جن کو پی پی پی کی بنیاد پر شروع کیا جاسکے۔